سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ ہمارے گرد صرف اندھیرا تھا — ایسا اندھیرا جس میں روشنی کا تصور بھی عیت۔ نمی سے بھیگی دیواروں سے ٹپکتا پانی, گونجتی ہوئی آوازیں, اور یگ ب دور کسی انجانی مخلوق کی چیخ… یہ سب کچھ دماغ کو مفلوج کر دینے کال دینے کے
پانی کی بوند اب ہماری مشعل پر ٹپکنے لگی تھی۔ آگ بھجنے کو تھی۔ ہم ایک تنگ سرنگ میں کھڑے تھے — اتنی تنگ کہ پروفیسر کا کندھا ھسھ چکا تھا، اور ہنس کی کمر بار بار چھت سے ٹکرا رہی تھی میری سانس بے ترتیب ہونے لگی۔ اس سرنگ میں آکسیجن
ان کے کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا، وہی کرسی کھڑکةی کے پھ سورج کی شعاعیں وہاں آ کر ٹھہر جاتی تھیں۔ وہ اکثر کہا کرتی تھیں:“یہ روشنی تھوڑی دیر میرے دل کو گرما دیتوی ب کچھ ٹھنڈا ہو چکا ہے”. وہ اب وہاں نہیں تھیں۔کرسی پر صرف
سایہ بالکل ہمارے سامنے، سرنگ کے موڑ پر لرز رہا تھا — جیسے روشنی کتۆ ساے سایہ مگر وہ روشنی تو صرف ہماری مشعل کی کمزور زرد روشنی تھی۔ وہ ساکت نہیں تھا، مگر صاف بھی نہ تھا۔ دھندلا، دھواں سا، مگر واضح اتنا کہ دل دھڑکنا بھول جائے۔ “کیا… کیا وہ کوئی
ہم کئی گھنٹے تک چلتے رہے تھے۔ سرنگ اب بہت تنگ ہو چکی تھی، اور چھت اتنی نیچی کہ ہمیں جھک ڑار۔ پیروں تلے کی مٹی نرم ہوتی جا رہی تھی، اور فضا میں آکسیجن کسیجن کسیجن کسیجن کؾةضة مقدار ہو چکی تھی۔ میری سانس پھول رہی تھی۔ پروفیسر کے
ہمیں چلتے ہوئے بارہ گھنٹے سے زیادہ ہو چکے تھے۔ راستہ کہیں تنگ, کہیں خطرناک, اور کہیں ایسا تھا کہ صرف گھٹناک پڑا۔ پھر اچانک، وہ گھڑی آئی جس نے ہمیں روک دیا۔ سرنگ کا اختتام ایک بڑی، گول محراب پر ہوا — جیسے فطرت نے خود اپاتةاة دروازہ
ہم نے وہ برتن بہت غور سے دیکھا۔ اس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی, مگر کندہ کیا گیا نام اور سال اب بوھ “Jac Gauthier – 1825” پروفیسر نے کہا, “یہ فرانسیسی نام ہے غالباً کوئی سیّاح ْسیّاح ْ بھی پہلے۔" میں نے آہستہ سے کہا، “پھر وہ واپس
جیسے جیسے ہم گہرائی میں اترتے گئے, ماحول بدلنے لگا — اب دیوارییں بلکہ نمک کی سفیدی سے چمکنے لگی تھیں۔ کہیں کہیں پتھروں پر سفید کرسٹل بنے ہوئے تھے، اور فضا مییں ہلک گئی تھی۔ "یہ نمکی غار ہے،" پروفیسر نے کہا۔ “یہاں پانی کے بہاؤ نے چٹانوں
ہم اس سرنگ میں داخل ہوئے تو اندازہ ہوا کہ اب ہم زمین کی کسی عان تی بلکہ کسی قدرتی لاوا چیمبر میں ہیں — دیواریں ہموار تھیں, مگر جگوہ جگوہ جیسے زمین خود تھکن سے ٹوٹ چکی ہو۔ پروفیسر دیوار کے قریب جا کر کچھ پڑھنے لگے۔ وہ جگہ جگہ
ہم نے جرنل کو آہستہ سے کھولا۔ کئی صفحات نمی سے چپک چکے تھے، مگر درمیان میں ایک جگہ ہاتھ سھال — واضح اور تیز قلم: “اگر تم یہ پڑھ رہے ہو، تو سنبھل ٩ر آگے بڬھنا تی گ جسمانی طور پر نہیں، ذہنی طور پر بھی توڑتی ہے۔" ہم